23

’انسانی دماغ میں پائے جانے والے خلیوں یا نیورونز کی تعداد کہکشاں میں موجود ستاروں سے بھی زیادہ‘ – ایکسپریس اردو

ہم دماغ کے بارے میں جتنا جانتے ہیں، اس کا سہرا فاکندو مینز جیسے ماہرین کے سر جاتا ہے۔فوٹو: فائل

اگرچہ حالیہ برسوں میں سائنس کی دنیا میں بہت ترقی ہوئی ہے لیکن ابھی تک ہمارے لیے ہمارا دماغ ایک پراسرار اور پیچیدہ عضو ہے، جس میں پوشیدہ رازوں کو ابھی افشا ہونا ہے۔ لیکن ہم پھر بھی دماغ کے بارے میں جتنا جانتے ہیں، اس کا سہرا فاکندو مینز جیسے ماہرین کے سر جاتا ہے، جن کا شمار ان چند لوگوں میں ہوتا ہے جو دماغ کے بارے میں بہت علم رکھتے ہیں۔

ارجنٹائن میں پیدا ہونے والے فاکندو مینز نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے علومِ سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے جو کہ سائنس کی دنیا میں اعلیٰ ترین تحقیق کرنے والے شخص کو عطا کی جاتی ہے۔فاکندو مینز بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں اور کئی ایسے ٹی وی پروگراموں میں شرکت کر چکے ہیں جن میں عام لوگوں کو دماغی یا نیورو سائنس کے شعبے میں جدید ترین تحقیق سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ ان کی تازہ ترین کتاب کا نام ’ مستقبل کا دماغ‘ ہے ۔

اس کتاب میں دماغ پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات، نیورو ایتھِکس (مطالعہ دماغ کی اخلاقیات) اور معاشرتی مسائل کے حل میں سائنس کے کردار کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ ایک آن لائن کانفرنس کے دوران  فاکندو مینز سے گفتگو کا موقع ملا تو ہم نے ان کے سامنے چند سوالات رکھے۔

دماغ میں ایسی خاص بات کیا ہے؟

کئی دیگر خصوصیات کے علاوہ، جو چیز دماغ کو ایک حیران کن عضو بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے جسم کا وہ واحد عضو ہے جو اپنی وضاحت خود کرتا ہے۔ ہم سانس لینے سے لے کر یہ انٹرویو پڑھنے یا کسی فلسسفیانہ سوال کا جواب تلاش کرنے تک جو بھی عمل کرتے ہیں، ان سب کے پیچھے ہمارا دماغ ہی کارفرما ہوتا ہے۔ دماغ ہماری کائنات کی سب سے پیچیدہ اور حیران کن چیز ہے۔ اور ہمارے دماغ میں پائے جانے والے خلیوں یا نیورونز کی تعداد کہکشاں میں موجود ستاروں سے بھی زیادہ ہے۔

دماغ کے بارے میں ہم جانتے کتنا ہیں؟

دماغ کے بارے میں ہمارے علم میں جس قدر اضافہ گزشتہ چند عشروں میں ہوا ہے اتنا پوری انسانی تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ ان میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں۔ مثلاً ہم نے دِکھایا ہے کہ یہ عمومی تصور غلط ہے کہ ہمارے دماغ میں پائی جانے والی یادیں کسی ایک ڈبے میں پڑی ہوتی ہیں، بلکہ ہماری یاد اصل میں وہ آخری چیز ہوتی ہے جو ہمیں یاد رہ جاتی ہے۔ اب ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے دماغ میں نیورون ساری زندگی پیدا ہوتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ جب ہم بالغ ہو جاتے ہیں تب بھی یہ عمل جاری رہتا ہے۔ اب ہم اپنے اندر پائے جانے والے ہمدردی کے جذبات کو بھی بہتر سمجھ سکتے ہیں اور یہ بھی سمجھنے لگ گئے ہیں کہ دماغ اور زبان کے درمیان کیا تعلق ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہمارے جذبات میں دماغ کا کردار کیا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ ہمارے ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے میں دماغی خلیوں یا نیورونز کے سرکٹ کیسے کام کرتے ہیں۔

گزشتہ برسوں میں ہم نے نفسیاتی اور دماغ کے امراض کی جلد تشخیص میں بھی بہت ترقی کر لی ہے اور ہمارے اس علم میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کہ ہم کوئی چیز سیکھتے کیسے ہیں۔ دماغ کے بارے میں ہمارے علم سے نہ صرف ہم افراد کی زندگی میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ اس سے معاشرے کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔

دماغ کے بارے میں مزید دریافت کیا ہوگی اور ہمیں اس کا کب پتہ چلے گا؟

ہم نے یہ تو سمجھ لیا ہے کہ دماغ میں کوئی خاص عمل کیسے ہوتا ہے، لیکن ابھی تک ہمارے پاس ایسا کوئی سائنسی نظریہ یا تھیوری نہیں ہے جو یہ بتا سکے کے دماغ روز مرہ یا عموماً کیسے کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نیا علم نئے سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ یہ سوال ہم خود اپنے آپ سے پوچھ سکتے ہیں کہ آیا ہم کبھی دماغ کی پہیلیوں کو پوری طرح سمجھ پائیں گے۔

کیا دماغ ایک مکمل مشین ہے؟

میں دماغ کے حوالے سے بہترین مشین جیسے الفاظ استعمال نہیں کرتا، میں اس کی پیچیدگی اور اس چیز کی بات کرتا ہوں کہ دماغ میں کیا کچھ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ زندگی بھر ہمارا دماغ مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ اصل میں ایک لچکدار عضو ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ خود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے دماغ کے اعصابی نظام میں اس صلاحیت کو وہ نئی تبدیلیوں کے مطابق خود ڈھال لیتا ہے۔ اس صلاحیت کو نیرو پلاسٹی سِٹی کہا جاتا ہے۔ اس صلاحیت کے طفیل ارد گرد کے ماحول میں تبدیلیوں کے جواب میں ہمارے دماغ کے خلیے یا نیورونز نہ صرف آپس میں نئے کنکشن یا ربط بنا لیتے ہیں بلکہ نیورونز نئے انداز سے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں ہمارے تجربات ہمارے دماغ کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہی وہ بڑی صلاحیت ہے جس کی بدولت وقت گزرنے کے ساتھ بطور انسان ہم میں ارتقا ہوتا رہا ہے اور انسان خود کو ارد گرد کے ماحول کے مطابق تبدیل کرتا رہا ہے۔

آپ کی تازہ ترین کتاب کا عنوان ’مستقبل کا دماغ’ ہے، آنے والے کل میں دماغ کیسا ہو گا؟

اپنی ساخت کے اعتبار سے دماغ آئندہ کئی صدیوں تک تبدیل نہیں ہوگا۔ تاہم، جس قسم کی نئی ٹیکنالوجی سامنے آ رہی ہے۔ اس کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاید مستقبل میں ہمارے دماغ پر جینیاتی ردوبدل یا جینیٹک انجنیئرنگ کے اثرات زیادہ ہو جائیں گے اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے امکانات سے ہماری دماغی صلاحیتیں بھی وسیع ہو جائیں گی۔ آج ہم مصنوعی انتتخاب یا آرٹیفشل سلیکشن کے ذریعے اپنے جینز میں ردوبدل کر سکتے ہیں اور یوں اپنی جسمانی یا بائیولوجیکل خصوصیات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہم مصنوعی ریشے یا ٹِشوز بھی بنا سکتے ہیں، جیسے پلاسٹک سے جلد بنانا اور آنکھ کے مصنوعی پردے یا ریٹینا بنانا۔

اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہم آئندہ چند صدیوں میں ایسے نِیورل ٹِشوز بھی بنانے لگیں جو ہمارے دماغ میں موجود ہوتے ہیں یا قدرتی طور پر پائے جانے والے دماغی ریشوں کو مرمت کرنے کے قابل ہو جائیں۔ اس سے ڈیمنشیا اور اس جیسے دیگر دماغی امراض کا علاج دریافت کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد ہم اپنا دماغ استعمال کرنا چھوڑ دیں گے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟

نہیں، بالکل نہیں۔ کوئی بھی مشین ہمارے دماغ کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ہمارا دماغ ڈیٹا پروسیسر سے بڑی چیز ہے۔ آپ تصور کریں کے ہمارا سوشل برین یا معاشرتی دماغ کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ مثلاً یہ دیکھیں کہ ہمارا دماغ یہ کیسے سمجھ جاتا ہے کہ دوسرے انسان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے، یوں ہم دوسرے انسان کا درد سمجھ جاتے ہیں اور ہمارا دماغ دوسرے شخص کے درد کے ردعمل میں کیا کرتا ہے۔ ہمدردی، ایثار اور تعاون ایسی صلاحیتیں ہیں جو کسی مشین میں نہیں ہو سکتیں، اور یہی صلاحیتیں انسانی زندگی کی بنیاد ہیں۔ ہمیں یہ بالکل نہیں بھُولنا چاہیے کہ ہم بنیادی طور پر ایک معاشرتی مخلوق ہیں۔

انسانی دماغ کے ارتقا میں لاکھوں سال لگے ہیں۔ کیا ہم مصنوعی ذہانت یا کسی دوسری جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ارتقا کے اس سفر کو پلٹ سکتے ہیں؟

بالکل، ہمارا دماغ صدیوں میں ہونے والے ارتقا کی پیداوار ہے کیونکہ دماغ کی سطح پر تبدیلی ہزار ہا سال میں آتی ہے۔ اگر ہم اپنی ارتقاعی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ گذشتہ دو لاکھ برسوں میں ہمارے دماغ کے خدوخال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس لیے یہ سوچنا مشکل ہو گا کہ اگلی چند صدیوں میں دماغ کی ساخت میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی۔ اور نہ ہی ارتقا کا عمل الٹا چلنا شروع کر دے گا کیونکہ کوئی چیز یاد رکھنے یا چھوٹا موٹا حساب کرنے کے لیے دماغ کا ایک چھوٹا حصہ کام کرتا ہے جبکہ دیگر کاموں کے لیے ہمیں زیادہ دماغ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہمیں پھر بھی یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار کر کے اپنے دماغ پر زیادہ دباؤ نہ ڈالیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اگر دماغ پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہیں تو اس سے ہماری صحت اور دماغ دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

ہم کیا ہیں، دماغ یا جذبات کا مجموعہ؟

یہ بہت اچھا سوال ہے۔ ہم دماغ اور جذبات دونوں ہیں کیونکہ یہ مختلف چیزیں نہیں۔ ہمارے دماغ میں جذبات کا بھی ایک مقام ہے اور یہی جذبات ہماری زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ جذبات ہماری یادوں پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان چیزوں کو بہت اچھی طرح یاد رکھتے ہیں جن کے اثرات ہم پر گہرے ہوتے ہیں۔ مثلاً ہر شخص کو یاد ہے کہ وہ 11 ستمبر 2001 کے دن اس وقت کیا کر رہا تھا جب نیویارک میں ٹِون ٹاورز (ورلڈ ٹریڈ سینٹر) پر حملہ ہوا تھا، لیکن کسی شخص کو یہ یاد نہیں کہ وہ گیارہ ستمبر سے ایک دن پہلے کیا کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ جذبات ہمارے فیصلہ کرنے کے عمل پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لیے ہمارے اندر دو قسم کے نظام موجود ہوتے ہیں۔ ایک نظام وہ جو خود بخود کام کرتا ہے اور تیز کام کرتا ہے۔ یہ نظام ہمارے ارتقا کی دین ہے۔ اور دوسرا نظام وہ ہے جو آہستہ اور عقلی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ فیصلہ سازی میں ہماری رہنمائی جذبات ہی کرتے ہیں، اور عقل عموماً وہ وضاحت ہوتی ہے جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم نے مذکورہ فیصلہ کیوں کیا۔

ہمارے دماغ پر کورونا وائرس کی وبا کیسے اثرانداز ہو رہی ہے؟

یہ وبا ہمارے دماغ پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ہم پر دباؤ بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ ہمارے معمولات مکمل طور پر درہم برہم ہو چکے ہیں، ہم خوفزدہ ہیں اور اپنے پیاروں سے دور ہو گئے ہیں۔ وبا کے دنوں میں وہ کام نہ کر سکنا جس کے ہم عادی ہیں، اور وہ کام کرنا جس کے ہم عادی نہیں ہیں، اس کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح موجودہ صورت حال کے نتیجے میں معاشی بے چینی پیدا ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ہم شدید معاشرتی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں اور اس سے نفسیاتی امراض کا خطرہ بڑہ گیا ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ اگر آپ بہت عرصے کے لیے دوسروں سے الگ تھلگ رہتے ہیں تو اس سے آپ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس یا کسی حادثے کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ جذباتی طور پر تھک جاتے ہیں، آپ پریشانی، نیند کی کمی، بے چینی، اکتاہٹ اور چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ چیز بہت اہم ہے کہ ہم صحت مندانہ سرگرمیاں جاری رکھیں مثلاً رات کو اچھی نیند سونا، صحت افزا خوراک کھانا اور تمباکو، شراب اور منشیات سے پرہیز کرنا۔

جہاں تک ممکن ہو ہمیں ایک معمول پر عمل کرنا چاہیے، وقت پر سوئیں، جاگیں، کام کریں، پڑھائی کریں اور ورزش بھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرتی رشتوں کو مضبوط بنائیں کیونکہ یہی وہ رشتے ہیں جو ہمیں ایک معمول کا احساس دلاتے ہیں اور ہمیں دوسروں کو یہ بتانے میں مدد کرتے ہیں کہ ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں۔

ان دنوں کئی ممالک میں ایک دوسرے سے بالمشافہ ملنا ممکن نہیں ہے، لیکن ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ان حالات میں ہمیں چاہیے کہ خود پر رحم کریں۔ کئی ماہ سے جاری اس وبا کہ بعد ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ہماری کارکردگی، توجہ اور توانائی ویسی ہی ہونی چاہیے جیسی وبا سے پہلے تھی۔            ( بشکریہ بی بی سی )





Source link

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں