8

دنیا کی سب سے چھوٹی اور کم خرچ ایکسرے مشین تیار – ایکسپریس اردو

اس چھوٹی سی مشین کی ویڈیو اسکرین فوری طور چوٹ کی نوعیت سے آگاہ کرتی ہے (فوٹو: جامعہ اولو)

فن لینڈ: فن لینڈ کے ماہرین نے بھاری بھرکم ایکسرے مشین کو سکیڑ کر اسے ٹھیلے کی شکل دے دی ہے جس سے فی الحال انگلی، ہاتھ اور کلائی کے فریکچر کی فوری خبر لی جاسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف اولو کے دو سائنس دانوں، ٹائمو لائمیٹینن اور میٹی ہینی ہوا نے ایک بہت چھوٹی اور منظم ایکسرے مشین تیار کی ہے جہاں کسی آپریٹر کے بغیر خود مریض اپنے ہاتھوں کی ہڈیوں کا ایکسرے کرسکتے ہیں۔ اس مشین کو محاذِ جنگ، کھیلوں کے میدان اور دیگر جگہوں پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اولو یونیورسٹی میں تیار کردہ پہلا نمونہ 50 سینٹی میٹر چوڑا، اتنا ہی لمبا اور 130 سینٹی میٹر اونچا ہے۔ اس طرح یہ عام ایکسرے مشین سے بہت ہی چھوٹا ہے جسے رکھنے کے لیے کسی مخصوص کمرے کی ضرورت نہیں۔ مشین میں ہاتھ رکھتے ہیں ویڈیو اسکرین پر ہڈی میں ممکنہ چوٹ اور فریکچر کا انکشاف ہوجاتا ہے۔

فی الحال اسے ہاتھوں کی انگلیوں، ہتھیلی اور کلائی وغیرہ کی چوٹ معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن جلد ہی جسم کے دیگر حصوں کو دیکھنے کے لیے بھی اس میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں گی۔

بعض حالات میں ہڈی کے فریکچر کا فوری احوال لیا جاتا ہے۔ کھیل کے میدان، میں شاہراہوں پر، اسکیٹنگ اور فوجی تربیت میں اس طرح کی چوٹیں لگتی ہیں۔ اب اس چھوٹی ایکس رے مشین کی بدولت فوری طور پر چوٹ کی شدت اور نوعیت معلوم کی جاسکتی ہے۔

دریں اثنا دستی ایکسرے مشین ایک سے دوسری جگہ بہت آسانی سے منتقل بھی ہوسکتی ہے۔





Source link

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں