8

مصر میں بدکاری کے الزام میں قید خاتون ٹک ٹاکرز کو بری کردیا گیا – ایکسپریس اردو

نوجوان ٹک ٹاکرز قاہرہ یونیورسٹی کی طالبات ہیں، فوٹو : فائل

قاہرہ: مصر کی دو مشہور ٹک ٹاکر خواتین کو فحاشی پھیلانے اور عوامی اخلاق کی خلاف ورزی پر سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیکر بری کردیا گیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر کی ایک عدالت نے ٹک ٹاک پر ویڈیوز کے ذریعے معاشرے کی اقدار پر حملہ کرنے کے الزام میں قید دو نوجوان خواتین کو بری کردیا ہے۔ ان خواتین کو “عوامی اخلاق کی خلاف ورزی” کرنے کے الزام میں گزشتہ برس جولائی میں 2 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

نوجوان ٹک ٹاکرز ہانین حسام پر اپنے 13 لاکھ صارفین میں سے خواتین کو پیسوں کے بدلے ویڈیو نشر کرنے کی ترغیب دینے جبکہ معاودہ پر غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز شائع کرنے کا الزام تھا۔

قاہرہ یونیورسٹی کی طالبہ ہانین حسام بریت کا فیصلہ سننے کے بعد کمرہ عدالت میں بیہوش ہوگئیں۔ نو ماہ سے جیل میں قید ہانین سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھیں تاہم انہین رہائی کے لیے ابھی ایک اور مقدمے کا سامنا ہے۔

روایت پسند مصر میں خواتین کو مغربی طرز زندگی اپنانے کی اجازت نہین اور سوشل میڈٖیا کے استعمال کے دوران نوجوانوں کو ملکی اقدار کی پاسداری پر زور دیا جاتا ہے بصورت دیگر دو سال قید اور 3 لاکھ مصری پاؤنڈز کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔

 





Source link

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں