مگرمچھ کی کٹی ہوئی دُم بھی دوبارہ اُگ جاتی ہے، تحقیق 50

مگرمچھ کی کٹی ہوئی دُم بھی دوبارہ اُگ جاتی ہے، تحقیق

مگرمچھ اور چھپکلی ارتقائی رشتہ دار ہیں لیکن مگرمچھ میں کٹی دم دوبارہ اگانے کی صلاحیت پہلی بار ثابت ہوئی ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایریزونا: امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ بیشتر چھپکلیوں کی طرح مگرمچھ کی بعض اقسام میں بھی کٹی ہوئی دُم ایک بار پھر اُگ آتی ہے، البتہ وہ کٹ جانے والی دم سے تھوڑی مختلف ہوتی ہے اور اس میں گوشت بھی کم ہوتا ہے۔

یہ تحقیق ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی اور لیوزیانا ڈیپارٹمنٹ ااف وائلڈلائف اینڈ فشریز کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

واضح رہے کہ بعض جانوروں میں کٹے ہوئے اعضاء دوبارہ اگانے کی محدود صلاحیت پائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے چھپکلی کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہے کیوں کہ اگر اس کی پوری دُم کٹ جائے تو وہ بھی مکمل طور پر دوبارہ اُگ آتی ہے۔

مذکورہ دریافت کے بعد مگرمچھ بھی ان جانوروں میں شامل ہوگیا ہے جن میں کٹے ہوئے اعضاء دوبارہ اُگانے کی قدرتی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ صرف شکل و صورت ہی نہیں بلکہ ارتقائی اعتبار سے بھی مگرمچھ اور چھپکلی ایک دوسرے کے ’’قریبی رشتہ دار‘‘ ہیں۔ اندازہ ہے کہ پرندوں، کچھووں، اژدہوں، چھپکلیوں اور مگرمچھوں کے مشترکہ آبا و اجداد آج سے 25 کروڑ سال زمین پر پائے جاتے تھے جو بعد میں ناپید ہوگئے۔

امریکا میں پائے جانے والے بڑے مگرمچھ ’’امریکن ایلیگیٹر‘‘ کے بارے میں بھی برسوں سے ایسی اطلاعات ریکارڈ پر ہیں کہ اگر اس کی دُم کٹ جائے تو وہ خودبخود ہی دوبارہ اُگ آتی ہے۔

ان خبروں کی تصدیق کرنے کےلیے ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی اور لیوزیانا ڈیپارٹمنٹ آف وائلڈلائف اینڈ فشریز کے ماہرین نے مشترکہ ٹیم بنائی اور جنگل میں ایسے مگرمچھ تلاش کیے جن کی دمیں اپنی ہی قسم کے باقی مگرمچھوں سے بہت مختلف دکھائی دے رہی تھیں۔

ایسے تین مگرمچھوں کو پکڑ کر ماہرین نے ان کی دُموں کا موازنہ (اسی قسم کے) دوسرے مگرمچھوں کی دموں سے کیا۔

یہ فرق اتنا واضح تھا کہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ جن مگرمچھوں کی دُمیں دوبارہ اُگے ہونے کا شبہ تھا، ان کی دُموں پر نہ صرف اس زخم کے نشانات باقی تھے کہ جن کی وجہ سے اصل دم کٹ گئی تھی بلکہ ٹھیک اُسی مقام سے دُم کے دوبارہ اُگ آنے کی نمایاں علامات بھی موجود تھیں۔

مطلب یہ کہ مگرمچھوں کی دوبارہ اُگ آنے والی دموں کو پرانی دُم کی ہوبہو نقل نہیں کہا جاسکتا تھا بلکہ وہ کٹ جانے والی دُموں سے اندرونی اور بیرونی، دونوں اعتبار سے خاصی مختلف تھیں۔

حیرت انگیز طور پر، مگرمچھوں میں بھی کٹی ہوئی دُم دوبارہ اُگنے کا انداز تقریباً ویسا ہی تھا کہ جیسا چھپکلیوں میں ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ دوبارہ اُگی ہوئی دُم کی کھال کچھ بے ہنگم تھی جبکہ اندرونی طور پر بھی اس میں چربی، گوشت اور پٹھے (کٹ جانے والی دُم کے مقابلے میں) کم تھے۔

اس تحقیق کی تفصیلات آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ ہوئی ہیں۔





Source link

Spread the love

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں