پاکستان میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر انڈیا کو اعتراض کیوں؟

yxein

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر انڈیا میں بعض حلقوں نے احتجاج کیا ہے۔

جمعرات کو انڈیا میں وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا کہ انڈیا نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے- اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے شریواستو نے کہا جموں و کشمیر کا پورا یونین علاقہ اور ریاست کا مرکز لداخ انڈیا کا اٹوٹ انگ حصہ رہا ہے۔ ہم حکومتِ پاکستان کی ڈیم کی تعمیر کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔

شریواستو کے مطابق اس ڈیم کی وجہ سے انڈین یونین علاقہ جموں وکشمیر اور لداخ کے بہت سے علاقے زیرِ آب آئیں گے۔ ہم غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقوں کو تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کی مستقل کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔

شریواستو نے کہا کہ اس طرح کے منصوبوں کے حوالے سے انڈیا- پاکستان اور چین دونوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

اسی بارے میں
دیامر بھاشا ڈیم :کیا متنازع منصوبہ اس مرتبہ پایۂ تکمیل کو پہنچے گا؟

انڈیا اپنے حصے کا پانی پاکستان نہیں جانے دے گا

انڈیا: مغربی دریاؤں کا پانی استعمال کرنے کی کوششیں تیز

انڈیا کے حصے کا پانی پاکستان کو نہیں ملے گا: مودی

پاکستان چین کی مدد سے ڈیم بنا رہا ہے
عمران خان نے 15 جولائی کو دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی منصوبے کا افتتاح کیا۔ پاکستان چین کی مدد سے یہ منصوبہ بنا رہا ہے۔

نیوز مانیٹرنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ڈیم چین اور پاک فوج فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے مابین مشترکہ معاہدے کے تحت تعمیر کیا جارہا ہے۔

افتتاح کے موقع پر عمران خان کے ہمراہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔ وہاں عمران خان نے کہا کہ ماضی میں ڈیموں کی تعمیر پر توجہ نہ دینا پاکستان کی غلطی ہے۔

انھوں نے کہا یہ فیصلہ 40-50 سال پہلے کیا گیا تھا اور اب اس منصوبے پر کام شروع ہو رہا ہے۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہم ترقی نہیں کرسکے۔

حکومت پاکستان کو امید ہے کہ اس منصوبے سے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور 16000 سے زائد افراد کو روزگار ملے گا۔

انڈیا کو اعتراض کیوں؟
اس منصوبے پر انڈیا کے اعتراضات کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلا کشمیر اور لداخ کے ان علاقوں کے ڈوبنے کا خطرہ جس پر انڈیا اپنی طاقت کا دعویٰ کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس منصوبے میں چین کی شمولیت ہے۔

ایشیا کے امور کے ماہر ایس ڈی منی کا کہنا ہے کہ انڈیا کی مخالفت اس لیے ہے کہ سی پیک چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت تعمیر ہو رہی ہے اور چین اس سے وابستہ ہے۔

انڈیا کو خدشہ ہے کہ چین اور پاکستان مل کر انڈیا کے پانی کے بارے کوئی پالیسی بنا سکتیں ہیں کیونکہ اس وقت لداخ میں تنازع ہے اور ندیاں لداخ ہی سے گزرتی ہیں۔

انڈیا کے پاس کیا راستے ہیں؟
انڈیا نے پاکستان کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ لیکن کیا انڈیا اس منصوبے کو روکنے کے لیے کوئی اقدام اٹھا سکتا ہے ایس ڈی منی کے مطابق پاکستان کو روکنا ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈیا پاکستان کے زیر انتظام حصے پر اپنے قبضے کا دعویٰ کرتا ہے۔ لیکن جب تک یہ علاقہ پاکستان کے پاس ہے، پاکستان جو چاہے کرسکتا ہے۔

پاکستان بھی کشمیر پر اپنے اختیار کا اظہار کرتا ہے- لہذا جب انڈیا نے وہاں ڈیم بنانا شروع کیا تو پاکستان نے بھی اعتراض کیا۔ جب انڈیا وہاں کچھ کرتا ہے تو پاکستان احتجاج ہی کرسکتا ہے۔ وہ اس کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ ہم بھی احتجاج ہی کرسکتے ہیں۔

تاہم ان کے خیال میں احتجاج کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ان علاقوں پر اپنے دعویٰ کو مستحکم کرنے میں انڈیا کی مدد کرتا ہے۔

دی انرجی اینڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ یا ٹی ای آر آئی کے سینئر فیلو ڈاکٹر ایس کے سرکار کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے مابین انڈس واٹر ٹریٹی موجود ہے۔ اگر اس کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تو دونوں ممالک کے لیے احتجاج کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔

انڈیا نے متعدد بار احتجاج کیا
پانی کے معاملے پر ایک طویل عرصے سے انڈیا پاکستان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اگرچہ احتجاج کی آوازیں پاکستان کی طرف زیادہ سنائی دی گئیں۔

ڈاکٹر ایس کے سرکار کے بقول اس کی وجہ یہ ہے کہ جغرافیائی طور پر یہ دریا انڈیا کے راستے پاکستان کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر ایک ڈیم انڈیا کی طرف بنایا گیا تو پاکستان کی طرف پانی کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے۔

لیکن اگر ڈیم سندھ آبی معاہدے کے مطابق ہے تو پھر اس طرح کے احتجاج کی بھی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

سال 2018 میں پاکستان نے انڈیا میں دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے دو منصوبوں میں سے ایک پر اعتراض کیا۔

انڈیا 48 میگاواٹ گنجائش والے چناب۔ لوئر کرنائی اور 1500 میگاواٹ گنجائش والے پکال دل پر پن بجلی منصوبے کے لیے دو ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ پاکستان نے پکال دل ڈیم کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ یہ سندھ آبی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کے مطابق پکال دل ڈیم کی اونچائی 1708 میٹر ہوسکتی ہے، جس سے پاکستان میں آنے والے پانی کی مقدار کو کم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان نے کہا کہ اس سے انڈیا اپنی خواہش کے مطابق پانی روکنے یا چھوڑنے کا اہل ہو گا۔

گذشہ برس، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہریانہ میں ایک انتخابی ریلی میں انڈیا سے پاکستان جانے والے پانی کو روکنے کی بات کی تھی۔

مودی نے کہا تھا کہ انڈیا کے کسانوں کے حقوق کے لیے پانی ہریانہ کے کسانوں کے حقوق کے لیے پانی 70 سالوں سے پاکستان گیا۔ یہ مودی پانی روک دے گا- اسے اپنے گھر لے آئے گا۔‘

اس کے جواب میں، پاکستان نے کہا کہ معاہدے کے تحت، تینوں ندیوں کے پانیوں پر اس کا ‘خصوصی حق’ ہے اور پانی کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو اشتعال انگیز کارروائی سمجھا جائے گا اور پاکستان کو ردعمل کا حق’ حاصل ہو گا

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
1960 میں انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے یہ معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق دریائے سندھ میں شامل ہونے والے دریاؤں کو مغربی اور مشرقی دریاؤں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

سمجھوتے میں دریائے سندھ جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو دیا گیا اور راوی بیاس اور ستلج کا پانی انڈیا کو دیا گیا۔

اس میں یہ بھی طے ہوا کہ انڈیا کچھ چیزوں کو چھوڑ کر اپنے دریاؤں کے پانی کا بے روک ٹوک استعمال کر سکتا ہے۔ وہیں پاکستان کے دریاؤں کے استعمال کا کچھ حق انڈیا کو بھی دیا گیا تھا جیسے بجلی بنانا اور زراعت کے کے لیے پانی کی محدود مقدار۔

پاکستان انڈیا کے پانی سے پیدا کرنے والے بجلی کے بڑے منصوبوں پر اعتراض کرتا رہا ہے۔ وہیں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پانی کے ذرائع سے ریاست کو فائدہ نہ ملنے کی بات کی جاتی رہی ہے۔

جب بی جے پی کی حمایت سے محبوبہ مفتی جموں کشمیر کی وزیر اعلیٰ تھیں تو انھوں نے کہا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ سے ریاست کو بیس ہزار کروڑ کا نقصان ہو رہا ہے اور وفاقی حکومت اس کو پورا کرنے کے لیے قدم اٹھائے۔

پاکستان کے صوبوں پنجاب اور سندھ کو زراعت کے لیے دریاؤں سے پانی ملتا ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں کے لیے آبپاشی کا یہی ذریعہ ہے۔

Spread the love

Leave a Reply

Next Post

عیدالاضحیٰ پر اس مرتبہ کھالیں کون جمع کرے گا؟ حکومت نے اعلان کردیا

عیدالاضحیٰ کے موقع پر کھالوں کے حوالے سے محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق اس مرتبہ قربانی کی کھالیں صرف رجسٹرڈ خیراتی ادارے اور دینی مدارس ہی جمع کرسکتے ہیں۔ محکمہ داخلہ سندھ :کی جانب سے […]

Subscribe US Now